اعتماد

ایک دن بہار کے شروع میں ایک شخص ندی کے پانی میں اور کھیت میں سونا تلاش کر رہا تھا۔ گھنے جنگل کے قریب اس نے شیر کی گرج سنی۔ اس نے بہت احتیاط سے اردگرد دیکھا ۔گرج کی آواز دوبارہ آئی ۔سمت کا تعین کرتے ہوئے جہاں سے آواز آئی تھی اس نے بیس قدم کے فاصلے

پر ایک بڑے شیر کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا۔ آدمی شکاری نہ تھا اور نہ ہی اس کا ارادہ درندے کو مارنے کا تھا اگر وہ اس پر حملہ نہ کرے، اس نے جنگل میں کافی سال گزارے تھے اور وہ جانتا تھا کہ شیر خونخواردرندہ ہوتاہے وہ اس خطر ناک صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔شیر اس کی طرف بڑھا تب اس نے دھیمی آواز میں کراہنا شروع کر دیا۔ آدمی نے دیکھا شیر کا پچھلا پنجہ ایک پھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ آدمی نے پھندے میں پھنسے درندے کی جانب بڑھنا شروع کر دیا جو کہ آدمی کے قریب آنے پر ڈرا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور جلدی سے وہ اتنا پیچھے ہٹ گیا جتنی کہ پھندے کی زنجیر نے اسے جانے دیا۔ آدمی نے دیکھا کہ یہ شیرنی تھی اس کے تھنوں میں دودھ بھرا ہوا تھا اس کی جسمانی حالت اچھی تھی اس بات کا قوی امکان تھا کہ اسے پھنسے ہوئے ابھی دو ہی دن ہوئے ہونگے۔ آدمی وہاں حیرانی میں کھڑا کافی دیر یہ سوچتا رہا کہ کیا کرے ۔

اس نے واپس مڑنے کی حرکت کی تب اسے بھوکی شیرنی کے بچوں کا خیال آیا جو اپنی ماں کا انتظار کر رہے تھے۔ بچوں اور ان کی ماں کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے وہ سوچنے لگا۔ اس نے شیرنی کے بچوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا وہ اسے قریبی چٹانوں کے غار میں مل گئے وہ یقینا بھوکے تھے،بھوک نے بچوں کو اجنبی مخلوق سے ڈرنا بھلا دیا اس نے ایک ایک کرکے بچے کپڑے کے تھیلے میں ڈالے اور انہیں ان کی ماں کے پاس لے آیا جو کہ پھندے میں گرفتار تھی ۔ بچے جلدی سے اپنی ماں کے پاس چلے گئے ۔آدمی ایک محفوظ جگہ پر کھڑا ہو کر خاندان کے دوبارہ ملاپ کو دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ان کی طرف بڑھنے لگا لیکن ایک غصے بھرے گرج نے اسے وہیں روک دیا۔ماں نے اس کو بچوں کے قریب آنے کی اجازت نہ دی ۔ آدمی ایک قریبی درخت کے پاس گیا اور اس کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا میں اس وحشی درندے کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کیا کروں؟ اس نے اپنے آپ سے پوچھا ۔ وہ وہاں کافی دیر بیٹھا رہا اور پھنسے ہوئے درندے کی مدد کرنے کا طریقہ سوچتا رہا۔ تب وہ کھڑا ہوا اور تقریباً بھاگتا ہوا اپنے عارضی لکڑی کے بنے ہوئے کمرے میں گیا تھوڑی

دیر بعد وہ ہاتھ میں گوشت کا ٹکڑا لیے واپس آگیا۔اس نے گوشت کا ٹکڑا شیرنی کی طرف پھینکا۔شیرنی نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد کھانے کا تحفہ قبول کیا اور اسے کھالیا۔ چاروں بچے جن کی بھوک مٹ چکی تھی آدمی کے پاس آئے اور اس کے پاس دوڑنے ،اُچھلنے ،کودنے لگے ۔ایسا معلوم ہوتا تھا انہیں آدمی پہ پورا اعتماد ہو گیا ہے ۔اگلے چند روز تک آدمی شیرنی کو دن میں دو مرتبہ خوراک دیتا رہا، ہر مرتبہ جب وہ گوشت کا ٹکڑا دیتا وہ بچوں اور ان کی ماں کے اور زیادہ قریب چلا جاتا۔ پانچویں دن جب شیرنی گوشت کا ٹکڑا کھا رہی تھی آدمی اس کے قریب آکر بیٹھ گیا درحقیقت وہ شیرنی کے اس قدر قریب آچکا تھا کہ وہ اس پر حملہ بھی کر سکتی تھی اگر وہ ایسا چاہتی وہ وہاں کافی دیر بیٹھا بچوں کو تھپکی دیتا رہا۔ شیرنی ساکن کھڑی تھی اور اپنی نگاہیں بھی اس سے نہیں ہٹا رہی تھی تب آہستہ بہت آہستہ آدمی نے اپنے ہاتھ کو حرکت دی اور اس کی پھنسی ہوئی ٹانگ پر ہاتھ رکھ دیا اور تب وہ تھوڑی سی پیچھے ہٹ گئی لیکن اس پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ آدمی اور قریب ہو گیا اور اس پنجے کو دیکھا جو اصل میں پھندے میں پھنسا ہوا تھا اور سوجا ہوا تھا وہ جانتا تھا اگر یہ پھندے سے آزاد ہو گئی تو جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔اس نے اپنا ہاتھ پھندے پر رکھ کر اس پر دباؤ ڈالا وہ کھل کر اچھلا اور شیرنی پھندے سے آزاد ہو گئی وہ اس کے پاس چل کر آئی اس کے ہاتھوں کو سونگھا جنگل میں جانے سے پہلے شیرنی رکی ،واپس مڑی اور آدمی کی طرف دیکھا ،وہ اسے الوداع کہہ رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *