163

مولوی صاحب کی تعویز

مولوی صاحب‘ کوئی ایسا تعویز لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے رویا نہ کریں مولوی صاحب نے بیچاری عورت کو تعویز لکھ دیا۔اگلے ہی روز کسی نے پیسوں سے بھرا تھیلا گھر کے صحن میں پھینکا‘ شوہر نے ایک دکان کرائے پر لے لی‘کاروبار میں بر کت ہوئی اور دکانیں بڑھتی گئیں‘ پیسے کی ریل پیل ہو گئیپرانے صندوق میں ایک دن عورت کی نظرتعویذ پر پڑی۔

جانے مولوی صاحب نے کیا لکھا تھا اس تعویذ میں؟ تجسس میں اس نے تعویز کھول ڈالا‘ لکھا تھا ’’جب پیسے کی ریل پیل ہوجائے تو سارا تجوری میں چھپانے کی بجائے کچھ ایسے گھر میں ڈال دینا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آواز آتی ہو‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں