82

سونے کے مہنگے ہونے کی کیا وجوہات ہیں

این این ایس نیوز!عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت صرف ایک ہفتے میں 1865 ڈالرز فی اونس سے بڑھ کر 1930 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچی ہے جب کہ گزشتہ سال جولائی میں یہ قیمت 1400 ڈالرز فی اونس کے لگ بھگ تھی۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان برقرار ہے اور 24 قیراط سونا فی تولہ ایک لاکھ 22 ہزار 500 روپے تک جا پہنچا ہے۔

ماہرین اور مالیاتی ادارے امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں آئندہ چند ماہ میں 2500 ڈالرز فی اونس تک بھی پہنچ سکتی ہیں جس کا اثر دنیا کی تمام مارکیٹس پر بھی پڑے گا۔

ماہرین کی نظر میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ کرونا وائرس سے پیدا معاشی صورتِ حال، بڑے ملکوں کے مابین جاری سرد جنگ اور معاشی سست روی بھی ہے۔

ماہر معیشت شمس اسلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈالر کی گرتی ہوئی قدر اور اسٹاک مارکیٹس میں جاری مندی میں سرمایہ کار یہ دیکھتا ہے کہ اسے اپنی دولت کہاں اور کیسے جمع کر کے رکھنی ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت نے نیندیں اڑا دیں

اُن کے بقول سرمایہ کاروں کو سب سے محفوظ سرمایہ کاری سونے ہی میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان دونوں ممالک میں جب بھی سونے کی خریداری زیادہ ہو تو روایتی طور پر دیکھا گیا ہے کہ سونے کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونا ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ جنت رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ شمس اسلام کا کہنا ہے کہ 2006 میں سونے کی فی اونس قیمت 725 ڈالرز تھی اور اس وقت کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ قیمت میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا اور یہ 1500 اور اب 2000 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ آن لائن پورٹلز کے ذریعے سونا خرید رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ سال بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہی متوقع ہے۔

‘سونے کی قیمت میں اضافہ کا مطلب غربت میں اضافہ’

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں بڑھنے کا منفی اثر غربت میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

شمس اسلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری درحقیقت معاشی سرگرمی پیدا کرنے کے بجائے جمود پیدا کرتی ہے۔

اُن کے بقول وہ پیسہ جو انفراسٹرکچر کی بہتری، نئی ملیں اور کارخانے لگانے یا اس طرح کی دیگر معاشی سرگرمیوں میں خرچ ہونے کے بجائے سونے کی شکل میں جمع رہتا ہے جس کا لامحالہ اثر معاشی صورتِ حال پر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تو بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اس وقت تیل پیدا کرنے والے ممالک میں بھی معاشی سرگرمیاں محدود ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہی صورتِ حال دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔

قیمت اتنی بڑھ جانے کے باوجود بھی لوگ سونا کیوں خریدار رہہیں؟

سونے کی قیمت تاریخی سطح پر جانے کے باوجود بھی پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سونا خرید رہے ہیں۔

آل سندھ صرافہ بازار اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے رہنما حاجی ہارون چاند نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب بھی سونے کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں؟

شمس اسلام کے مطابق ایک جانب ملک بھر میں معاشی حالت دگرگوں ہونے اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لیکن اُن کے بقول پاکستان میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی سونا خرید رہے ہیں کیوں کہ وہ اس کی سکت رکھتے ہیں۔

شمس اسلام سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے بینک قوانین میں سختی، انکم ٹیکس حکام کی جانب سے آمدن کے ذرائع سے متعلق سوالات سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنی غیر قانونی آمدن کو چھپانے کے لیے سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی ایسا ڈیٹا موجود نہیں جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ ملک میں کس کے پاس کتنا سونا موجود ہے۔

اُن کے بقول پہلے تو اس بارے میں یا ذرائع آمدن کے بارے میں معلوم ہی نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب کچھ ٹیکس قوانین میں بہتری لائی گئی ہے اور لوگوں سے ان کے ذرائع آمدن پوچھے جارہے ہیں۔ تاہم سونے سے متعلق معیشت کو دستاویزی بنانے سے معیشت پر اس کا مزید اچھا اثر پڑ سکتا ہے۔

شمس اسلام نے بتایا کہ پاکستان میں خوردنی اشیا مثلاً گندم، چینی، چاول اور کھانے کا تیل شامل ہیں۔ غیر دستاویزی دولت رکھنے والے ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار جانتا ہے کہ چاہے جو بھی حالات ہوں بہرحال یہ اشیا استعمال ہونی ہیں، ان کی طلب میں کمی نہیں آنی۔

مٹی میں سونے کی تلاش

اُن کے بقول اس لیے یہ لوگ ان اشیا کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس میں سے گندم اور چینی پر تو سیاسی طور پر کافی شور مچا ہے مگر چاول اور خوردنی تیل کے ذخیرہ اندوزوں کی جانب اب تک کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ میں عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی کم قیمتوں میں تقریباً آدھی کمی واقع ہوئی لیکن اس کا فائدہ عام صارف کو بالکل نہیں پہنچایا گیا۔

اس طرح ان سرمایہ کاروں نے ان اجناس میں سرمایہ کاری کر کے خوب منافع کمایا جسے کوئی دیکھنے والا نہیں یہی وجہ ہے کہ بینکنگ قوانین میں تبدیلی، اور ٹیکس سے بچنے کے لیے انہیں اپنا سرمایہ بینکوں سے نکال کر اجناس میں لگانا پڑا۔

اُن کے بقول ملک میں گندم اور چینی کی وافر پیداوار ہونے کے باوجود چند ماہ میں ان کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں کا ڈیٹا یہ بھی انکشاف کرتا ہے کہ ایک جانب سونے کی قیمتیں کئی گنا بڑھیں تو وہیں غریب اور امیر کے درمیان فرق میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دھات میں کی جانے والی سرمایہ کاری اکثر جمود کا شکار ہوتی ہے جس سے معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو سونے میں سرمایہ کاری ایک حد تک کرنے کی اجازت دی جائے

(بشکریہ وائس آف امریکہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں