208

عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے

مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے‘ایک دکان پر جا کر رک گئے‘دیکھا ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے‘سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا’’عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے‘چھوڑو پیسے اور جاؤ‘‘ مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے‘دکان دار سخت گھبرایا‘ اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی‘خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا’’مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟‘‘۔مولانا رومی نے جواب دیا’’میں اس بات پر

اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں‘جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح کے دانے گن گن کر گراتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں