119

حوا کی بیٹی اور حوس کے بچاری

ثناء کی عمر مشکل سے سولہ سال تھی کے اس کے والد کی موت واقعہ ہو گئی ماں کو جگر کا عارضہ لاحق تھا ۔چھوٹا بھائی ساتویں جماعت میں پڑھ رہا تھا باپ کی وفات کے بعد گھر کا خرچہ چلانا مشکل ہو رہا تھا ۔تو ثناء نے سوچا کہ کہیں نوکری کی جائے سو نوکری کی تلاش میں نکل پڑی۔میٹرک پاس تھی نوکری کون دیتا ۔وہ بیچاری بیشمار دفاتر کی خاک چھانتی رہی ۔بلآخر وہ ایک دفتر میں پہنچی وہاں استقبالیہ پر بیٹھی ماڈرن خاتون نے ثناء کو کہا کہ ہمیں ایک لیڈی سیکریٹری کی ضرورت ہے۔

باس میٹنگ میں ہیں فارغ ہوں تو مل لو ۔ثنا کو تھوڑا حوصلہ ہوا ۔اور بیٹھ کر انتظار کرنے لگی ۔ ثناء کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں.۔ باس کی میٹنگ اختتام پزیر ہوئی ۔باس نے اندر بلایا جیسے ہی ثناء دفتر میں داخل ہوئی باس نے دیکھتے ہی چیخنا شروع کر دیا کہ تم کسی مدرسے میں پڑھنے آئی ہو یا جاب کے لیے آئی ہو ۔بتاتا چلوں ثنا ء ایک مشرقی لڑکی جو نقاب برقعہ میں تھی ۔ثناء ایک دم چکرا سی گئی کہ وہ پاکستان میں ہے یا یورپ میں جہاں برقعہ پہننے پر اتنا غصہ کیا جا رہا ہے ۔ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ باس نے کہا جائو یہ برقعہ اور نقاب اتار کے آؤ ۔ثناء نا چاہتے ہوئے بھی باہر چلی گئی اور برقعہ نقاب اتار کے آ گئی ۔جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو باس کے چہرے کی شیطانی مسکراہٹ نے ثنا کا استقبال کیا ۔ثنا کو لگ ہی نہیں رہا تھا کے یہ وہ ہی پہلے والا باس ہے ۔خیر پہلے تو باس نے ثنا کی خوبصورتی کی تعریف کی پھر یہ پوچھنے لگا کہ پہلے تم نے کہیں جاب کی ہے ؟پبلک ڈیلنگ آتی ہے ؟وغیرہ وغیرہ . تعلیم کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھا گیا ۔ثناء تذبذب کا شکار تھی کہ یہ کیسا انٹرویو ہو رہا ہے ۔ثناء نے یہ نام ہی پہلی بار سنے تھے ۔لیکن اسکو نوکری چاہیے تھی سو وہ ہاں یا نہ میں جواب دیتی رہی۔ آخر میں باس نے کہا کہ اگر تم یہ برقعہ نقاب اتار کر ایک ماڈرن لڑکی بن جاؤ تو یہ نوکری پکی سمجھو۔تنخواہ بھی اچھی دوں گا ۔ثناء نے ایک دن کی مہلت لی اور گھر واپس چلی گئی ۔گھر پہنچ کر اس نے یہ ساری بات ماں سے کہہ ڈالی ۔ماں نے کہا بیٹی یہ لوگ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے تم نوکری کو رہنے دو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں