ایک چمچ بیکنگ سوڈا سے کریں گھر کے 5 مسئلے حل۔۔۔ جانیئے زندگی آسان بنانے والی ٹپس!

ایک چیز سے دو یا اس سے زیادہ فوائد کون حاصل نہیں کرنا چاہتا، ہمارے اردگرد ایسی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں جو ہمارے بہت سے کام نہایت آسان کر سکتی ہیں جیسے کہ کھانے کا سوڈا یا بیکنگ سوڈا یہ گھروں میں عام استعمال ہوتا ہے اور اکثر کھانوں وغیرہ کی تیاری کے لیے ہی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سفید پاﺅڈر جیسی چیز بہت سے ایسے کاموں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے

جس سے آپ کی مشکلات حل ہو جائیں گی؟نہیں؟ جانتے تو آج ہم آپ کی معلومات میں اضافہ کریں گے، تو آئیے بتاتے ہیں سوڈے کا ایسے طریقوں سے استعمال جو جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔بیکنگ پاﺅڈر کا ایک کپ نیم گرم پانی سے بھری بالٹی میں ڈال دیں اور پھر اس سے نہا لیں، اس سے آپ کو فوری طور پر دھوپ کی تپش سے ہونے والی جلن یا تکلیف کم کرنے میں مدد ملے گی آپ اس کو تھوڑے سے پانی میں ملا کر چہرے پر بھی لگا سکتے ہیں اس سے چہرے پر سورج کی تیز شعاعوں سے پڑنے والا ہیٹ برن ختم ہو جائے گا۔اگر آپ کو کسی جگہ مچھر یا کسی کیڑے نے کاٹ لیا ہے تو ایک چائے کا چمچ کھانے کا سوڈا اپنی ہتھیلی پر ڈالیں اور اس پر پانی کے چند قطرے ٹپکا دیں، اس کے بعد اس محلول یا پیسٹ کو مچھر کے کاٹنے والی جگہ پر لگا دیں، اسے خشک ہونے دیں اور پھر جو پرت جمے اسے صاف کر دیں، ایسے کرنے سے وہاں پڑنے والا سرخ نشان چھوٹا ہو جائے گا

اور خارش بھی ختم ہو جائے گی، یہی طریقہ کار شہد کی مکھی کے ڈنک میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔گھر میں مستقل استعمال ہونے والے برتن خراب ہونے لگتے ہیں، جیسے اسٹیل کے برتنوں کی رنگت خراب ہو کر کالی سی ہو جاتی ہے اس کے لئے کھانے کا سوڈا برتن میں ڈال کر پانی بھریں اور اِسے اُبالیں، برتن میں موجود کالے داغ ختم ہو جائیں گے، آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اِسی پتیلی یا ساس پین میں زنگ آلود چپچے یا دیگر چھوٹے برتن ڈال دیں تو وہ بھی صاف ہو کر چمکدار ہو جائیں گے۔اگر آپ کے یا گھر میں کسی اور کے پیروں سے بو آتی ہے یا تھکاوٹ کے باعث انگلیاں درد کر رہی ہیں تو اپنے پیروں کو ٹھنڈے پانی سے بھرے کسی برتن میں ڈال لیں اور اس پر کچھ مقدار میں بیکنگ سوڈا چھڑک کر پندرہ سے بیس منٹ تک ڈوبا رہنے دیںم، پھر پیروں کو دھو کر خشک کر لیں، اس سے پیروں کی بو بھی دور ہو جائے گی اور اگر پیروں میں تکلیف ہے تو اس کی شدت میں بھی کمی آجائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *