213

شوگرکی11 اہم نشانیاں اگر آپ کو ان میں سے کوئی ایک نشانی ظاہر ہو تو فوراََ شوگرٹیسٹ کروائیں

گلوب نیوز! یہ پوسٹ ہر پاکستانی کے لیئے بہت اہم ہے بیشتر افراد کا خیال ہے کہ ہی بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے کا باعث ہوتی ہے مگر ایسا بالکل بھی نہیں. ہر شخص اس کا شکار ہوسکتا ہے اور اسے اعصاب، خون کی شریانوں اور مختلف اعضاءپر اس کے نقصانات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا. اگر تو آپ بہت زیادہ چینی یا میٹھی اشیاءکھاتے ہیں

تو بلڈ شوگر لیول اکثر ہی اوپر کی جانب جاتا ہے. یہاں ایسی علامات جانیں جن سے واقفیت مختلف طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ان کی شناخت کرکے مناسب اقدامات بروقت کیے جاسکتے ہیں. ہر وقت بھوک ہائی بلڈ شوگر کے نتیجے میں جسم گلوکوز کو توانائی میں بدل نہیں پاتا، جس کے نتیجے میں جسم تواناءیسے محروم ہوجاتا ہے اور بار بار کھانے کا مطالبہ کرنے لگتا ہے اور یہ عمل جاری رہتا ہے. تھکاوٹ کا غلبہ اگر ہائی بلڈ شوگر لیول زیادہ ہو تو جسم کے لیے گلوکوز کو مناسب طریقے سے محفوظ اور جذب کرنا ممکن نہیں ہوتا، توانائی کی کمی کے نتیجے میں جسمانی خلیات کو ضرورت کے مطابق ایندھن نہیں مل پاتا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر بغیر کسی وجہ کے تھکاوٹ طاریرہتی ہے. بار بار پیشاب آنا اگر بلڈ شوگر کی سطح بہت زیادہ ہو تو گردے سیال کو دوبارہ جذب نہیں کرپاتے اور جسم خون اور خلیات میں گلوکوز کے اجتماع کو برابر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون سیال میں بدل جاتا ہے جس سے گلوکوز کا اجتماع معمول پر آتا ہے. اس عمل کے نتیجے میں بار بار واش روم کے چکر لگانے پڑتے ہیں. خشک منہ اور بہت زیادہ پیاس منہ خشک ہونا اور ہر وقت پیاس کا احساس بھی پیشاب کے ذریعے بہت زیادہ پانی کے اخراج کا نتیج ہوتا ہے. ایسا ہونے پر جسم ڈی ہائیڈریشن کی جانب بڑھتا ہے اور پیاس کا احساس بڑھا کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے.

جسمانی وزن میں کمی گلوکوز سطح میں اضافے کے نتیجے میں بہت کم وقت میں جسمانی وزن میں کمی ہوتی ہے، چاہے زیادہ کھانا ہی کیوں نہ کھایا جائے، اس کی چند وجوہات ہوتی ہیں، جیسے پیشاب کے ذریعے سیال کا اخراج، انسولین لیول کی سطح میں کمی کی صورت میں جسم چربی جلانے لگتا ہے، جبکہ زیادہ پیشاب کرنے سے زیادہ گلوکوز کا اخراج ہوتا ہے جس کے باعث جسم کو زیادہ کیلوریز کی ضرورت پڑتی ہے، یہ سب عوامل جسمانی وزن میں کمی کا باعث بنتے ہیں. مختلف امراض پیشاب کی نالی کی سوزش اور Yeast انفیکشن مردون اور خواتین دونوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جسم میں شوگر لیول کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں مختلف جراثیموں کی نشوونما کے سازگار ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو ان امراض کا باعث بنتا ہے. خشک جلد بلڈ شوگر لیول میں اضافے کے بعد زیادہ پیشاب، خون کی شریانوں کا شکڑنا اور اعصاب کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں جلد خشک ہونے لگتی ہے جو کہ مختلف جلدی امراض کا باعث بنتی ہے. سوچنے میں مشکل بلڈ شوگر لیول میں اضافہ گلوکوز کو دماغی خلیات کا حصہ نہیں بننے دیتا Hand massaging feet جس کے نتیجے میں دماغ کو توانائی کے حصول میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے، جس کے باعث سوچنے کی رفتار اور فیصلہ سازی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں. بینائی دھندلانا نظر کا دھندلانا بھی ہائی بلڈ شوگر کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن کے باعث ہوتا ہے

جو کہ آنکھوں کے خلیات پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے. ایسا ہونے پر آنکھ مناسب طریقے سے فوکس کرنے کی اہلیت سے محروم ہونے لگتی ہے. زخموں کا سست روی سے ٹھیک ہونا ہائی بلڈ شوگر خون کی شریانوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں دوران خون متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر مختلف اعضائ، جو زخموں کو جلد ٹھیک نہیں ہونے دیتا. چڑچڑاہٹ ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ شوگر بڑھنے کے نتیجے میں لوگ زیادہ چڑچڑے اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ دماغ کو گلوکوز کی سپلائی متاثر ہونا ہے.ہمارا فیس بک پیج لائیک کرنا نہ بھولئیے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں