70

ہمارا ہدف عمران خان نہیں ، نواز شریف

ہمارا ہدف عمران خان نہیں اس کو لانے والے ہیں ، نواز شریف

’محکمہ زراعت‘ سے آپ بخوبی واقف ہیں ،پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بناکر رکھ دیا گیا ، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی، رہی سہی کسر حکومت سازی کے جوڑ توڑ میں نکال دی جاتی ہے ، اے پی سی سے خطاب

اسلام آباد( 20 ستمبر2020ء) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا ہدف عمران خان نہیں بلکہ اسکو لانے والے ہیں ، کیونکہ ہماری جدوجہد بھی عمران خان سے نہیں ، اسے لانے والوں کے خلاف ہے ۔ لندن سے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سے سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں انہوں نےکہا کہ ملک میں 33 سال آمریت کی نظر ہوگئے، ڈکٹیٹر کو آئین سے کھلواڑ کا حق دے دیا گیا ، جب ڈکٹیٹر کو پہلی بار عدالت میں لایا گیا تو سب نے دیکھا کیا ہوا ، پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بناکر رکھ دیا گیا ، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی، رہی سہی کسر حکومت سازی کے جوڑ توڑ میں نکال دی جاتی ہے ، جانتے ہیں 73سال سے پاکستان کو کیا مسائل ہیں،،دوبار آئین توڑنے والوں کو عدالت نے بریت کا سرٹیفکیٹ دیا ، یہ سلوک عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے اور سزا بھی عوام کو مل رہی ہے ، کیونکہ ملک میں جمہوریت کمزور ہو گئی ہے اور عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کیسے ان کے خلاف سازش ہوتی ہے اور قومی سلامتی کے خلاف نشان دہی کرنے پر انھیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے ، سابق وزیر اعظم یوسف گیلانی نے کہا تھا ملک میں ریاست کے اندر ریاست ہے ، لیکن اب معاملہ ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے ۔

نوازشریف نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اتنا بڑا سکینڈل سامنے آیا ، عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے پاس انتے زیادہ اثاثے کہاں سے آگئے؟ اربوں روپے کے اثاثے کیسے بن گئے؟ یہ پوچھنے کی کسی کی مجال نہیں ، میڈای پر خاموشی چھاگئی ، نہ نیب حرکت میں آئی ، نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا ، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی ، اور نہ کوئی ریفرنس دائر ہوا ، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی نہ کوئی مانیٹرنگ جج بیٹھا ، نہ کوئی پیشی ہوئی ، اور وزیراعظم کہتے ہیں وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں