109

مردانہ طاقت چالیس مردوں کے برا بر کیسے کی جائے، طب نبویؐ سے بہترین نسخہ مل گیا

بہی جسے انگریزی میں Quinceکائنات نیوز! کہتے ہیں ایسا پھل ہے جو آڑو اور سیب سے مشابہہ ہوتا ہے اس کا احادیث میں بھی ذکر ملتا ہے۔اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے

ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے. بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں. پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے. اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔ بہی کھانے والی خواتین خوبصورت بچے پیدا کرتی ہیںاورمردوں میں چالیس افراد کے برابر قوت عود آتی ہے۔بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بچاجا سکتا ہے۔ابن ماجہ نے اپنی سنن میںحضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓسے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی‘ مجھے دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا‘ آجا طلحہ اسے لے لو اس لئے کہ یہ دل کو تقویت پہنچاتی ہے“اسی حدیث کو نسائی نے دوسرے طریقہ سے بیان کیا ہے”طلحہ نے بیان کیا کہ میں خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا نبیﷺ صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے‘ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی جس کو الٹ پلٹ کررہے تھے‘ جب میں آپﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو آپﷺ نے بہی میری طرف بڑھائی پھر فرمایا کہ ابو ذر اس کو لے لو، اس لئے کہ یہ مقوی قلب ہے سانس کو خوشگوار کرتی ہے اور سینے کی گرانی دور کرتی ہے“بہی کے حوالے سے بہت سی احادیث موجود ہیں.ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے

اور لڑکے کو حسین بناتا ہے“ ۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بہی کھاو ¿ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے. اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہوکیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے“بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں.اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے. پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے.تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں