323

ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا

ایک استاد تھا وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا :اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تونہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔

طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سُنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔ استاد عقل مند تھے: طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو: میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا اس موتی کی قیمت لگاؤ۔اس نے کہا کہ تم اس کے بدلےیہاں سے دو تین لیموں اُٹھا لو۔اس موتی سے میرے بچے کھیلیں گے۔ وہ بچہ استاد کے پاس آیا اور کہا: اس موتی کی قیمت دو یا تین لیموں۔ استاد نے کہا: اچھا اب تم اس کی قیمت سُنار سے معلوم کرو۔وہ گیا اور پہلی ہی دکان پر جب اس نے موتی دکھایا تو دکان دار حیران رہ گیا۔ اس نے کہا اگر تم میری پوری دکان بھی لے لو تو بھی اس موتی کی قیمت پوری نہ ہوگی۔ طالبِ علم نے اپنے استاد کے پاس آکر ماجرا سُنایا۔ استاد نے کہا بچے! ہر چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے۔ دین کی قیمت اللہ کی منڈی میں لگتی ہے۔اس قیمت کو اہلِ علم ہی سمجھتے ہیں۔ جاہل کیا جانے دین کی قیمت کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں