192

میاں اور بیوی میں جتنا بھی جگرا ہو اس بیان کو ایک

پہلا رشتہ خاوند اوربیوی آدم اورحوا پھردنیا میں بھی اگرزندگی ہے پہلے مرجائیں توالگ بات ہے اگرزندگی ہے توآخری رشتہ خاوند اوربیوی اورجنت میں جا کر ہمیشہ کا رشتہ خاوند اوربیوی ہرآدمی اپنی بیوی کے ساتھ اورہرعورت اپنے خاوند کے ساتھ جورا جورا ہوں گے بچے اپنی جنت میں ماں باپ اپنی جنت میں ساس سسراپنی جنت میں بھائی بہن اپنی جنت میں جنت میں بھی اللہ نے خاوند اوربیوی کا ساتھ بنایا ہے

یہ رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کوباقی رکھنے کےلئے اللہ تعالی نے سینکڑوں آیت اتاری اوراس میں

دخل اندازی میں کوئی راستہ نہیں ہے چھوڑا بعض بیویاں ایسی نادان ہوتی ہیں کہ اولاد کی محبت میں خاوند کو ڈی گریڈ کرتی ہیں بعض خاوند ایسے نادان ہوتے ہیں اپنے ماں باپ کے اخترام میں بیوی کو زلیل کرتے ہیں اپنے بھائیوں بہنوں کی سن کراپنی بیوی کو مارتے زلیل کرتے ہیں یہ تقریبان ہر گھر کی کہانی ہے ان دونوں سے میرے اللہ نے روکا ہے خاوند اپنی بیوی کو سب سے زیادہ عزت دے بیوی اپنے خاوند کو سب سے زیادہ عزت دے حقوق میں سب سے برا حق خاوند اوربیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ جورا گیا ہے کہ ان سے نسل چلنی ہے آپ خیران ہوں گے کہ بیوی کے زمہ خاوند کی روٹی پکانا شریعت نے نہیں ہے لگایا تو خاوند کے ماں باپ کی روٹی کیسے زمے ہو گی خاوند کے بھائی بہن کی روٹی کیسے زمے ہوگی کتنی بہنوں نے اپنے بھائیوں کے گھر اجاردیے ہوں گے کتنے ساس سسر نے اپنے بیٹے کے گھر اجار دیے ہوں گے یہ چاروں طرف پھیلی ہوئی کہانی ہے جائنڈ فیملی سسٹم بہت اچھا ہے اگر شریعت کا پتا ہواوربہت برا ہے اگر شریعت کا پتا نہ ہو شریعت نے آنے والی لڑکی کا حق رکھا ہے کہ اگر خاوند کے پاس طاقت ہے تو اسے الگ گھردے اگر وہ کہے کہ آپ مجھے الگ گھر لے کردیں تو یہ ماں باپ کی نافرمانی نہیں ہے آنے والی لڑکی کا حق ہے کہ اس نے تیری نسل کو سمبھالنا ہے اگریہ ساس کی بھی سنے سسر کی بھی سنے دیورکی بھی سنے پھر تیری بھی سنے تو یہ پاگل ہے بچے کہاں سے پالے گی ہماری نسل کیوں برباد ہوگئی ہے کہ مائوں نے اپنی ڈیوٹی چھوڑدی ہے تین سال کا بچہ سکول میں ڈال رہے ہیں میرے نبی ﷺ نے کہا ہے سات سال تک نماز کے لئے بھی کچھ نہ کہوگلے سے لگا کررکھو

تاکہ تمہاری صفات ان کے اندرمنتقل ہوں تمہاری محبت ان کے اندر منتقل ہو توجب بیوی پرپورے گھر کا بوجھ پر گیا تو وہ اپنے بچوں کو کب پالے گی تو وہ بچوں کی کب تربیت کرے گی کہیں اس کا الٹ بھی ہوتا ہے آنے والی ایسی آتی ہے پورے گھر کو تباہ کر کے ماں باپ کو بھی چھوڑا کے خاوند کو لے کرنکل جاتی ہیں ایسا بھی ہے لیکن یہ بہت کم ہے اللہ نے پہلا رشتہ خاوند اوربیوی کا بنایا اللہ نے آدم کو بنایا اور حوا کو ساتھ بیوی بنایا اولاد بعد میں دی ایک اور بات آدم کو بنا دیا مٹی کا پتلا اکھٹا کر کے چالیس سال کے بعد روح ڈالی اور پھر جنت میں بھیج دیا اور اکیلے بھیج دیا اور بیوی نہ دی حالانکہ اللہ چاہتا ساتھ ہی بیوی دے دیتا دیر سے کیوں بھیجا اس میں بہت سارے پیغام ہیں انتظار قدر کو بڑھانے کے لئے کے عورت کی قدر کرنا عورت کمزور زات ہے کمزور مخلوق ہے قدر کرنا اورپہلے دن سے ہی عورت کو پردے میں بنایا بے پرد نہیں کیا عورت کا پتلا نہیں ہے بنایا اور کیسے بنایا فرشتوں کی آنکھوں میں پردہ اور آدم کو سلا دیا حضرت آدم علیہ السلام سوئے ہوے ہیں جب آنکھ کھلی تو اپنی لیفٹ سائیڈ پر ایک خاتون سر سے لے کر پائوں تک لباس میں اور اللہ کی آواز آئی آدم تیری بیگم نکاح پڑھایا پھر کہا آدم مہرادا کرو توانہوں نے پوچھا کیا مہردوں میرے اللہ نے کہا تیری نسل میں میرا آخری حبیب آنے والا ہے اس پر ایک دفعہ درود پڑھ دے یہ مہر ہے سیدھے ہاتھ میں برکت ہے پیدا کیا ہے الٹی طرف سے الٹی طرف سے کیوں پیدا کیا ہے کہ الٹی طرف دل ہے دل کے نیچے جو پسلی ہے وہاں سے پیدا کیا اس میں پیغام کیا دیا

کہ عورت جس روپ میں ہو پہلا روپ اس کا بیوی بنا پھر وہ ماں بنی پھر وہ بیٹی کا روپ ہے پھر بہن کا روپ ہے پھر خالہ ہے پھوپھی ہے دادی ہے نانی ہے ساس ہے جس روپ میں بھی عورت ہے اس کو دل کے قریب جگہ دو دل کے نیچے سے پیدا کرنے میں یہ پیغام دیا گیا ہے ایسے زلیل نہ کرو ایسے خوار نہ کرو اس کو بے عزت نہ کرو تو پہلا بنیادی رشتہ خاوند اور بیوی ہے اللہ رب العزت نے بہت سے رشتہ بنائے ہیں جن میں میاں بیوی کے رشتہ کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو میاں بیوی کا رشتہ بہت نازک رشتہ ہوتا ہے لیکن اس رشتے کی وجہ سے انسان کتنے ہی حسین رشتوں سے بندھ جاتا ہے۔ ذرا غور کریں جب انسان کا نکاح ہوتا ہے تو نکا میں مقدس کلمات پڑھائے جاتے ہیں۔ اس سے میاں بیوی کا رشتہ بندھ جاتا ہے۔ آگے چل کر اس رشتہ میں اضافہ ہوتا ہے اولاد کا یہ کتنا خوبصورت احساس ہوتا ہے۔ کہ اس نازک رشتے سے جس کو زبان سے نکلنے والے تین الفاظ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرسکتے ہیں۔ کتنے ایسے رشتے بنتے ہیں جن کو نہ تو شرعی لحاظ سے توڑا جاسکتا ہے اور نا قانونی لحاظ ہے اب انسان اولاد کو تو نہیں کہہ سکتا کہ تو میرا بیٹا نہیں یا پھر تو میری بیٹی نہیں۔ بہت سے لوگ اپنی اولاد کو مختلف وجوہات کی بات پر اپنی جائیداد سے عاق کرتے ہیں۔لیکن قانونی اور شرعی طورپر ایسا کرنے سے اولاد اولاد ہی رہتی ہے۔ اس سے رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ یہ سب اللہ پاک کا فضل و کرم ہے کہ ہمارے رب نے اس رشتہ میں یہ برکتیں عطاء فرمائی ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ایسا گناہ نہیں جس کو انسان سے کروانے پر شیطان خوش ہوتا ہے جتنا خوش شیطان میاں بیوی کے جھگڑے پر ہوتا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں میاں بیوی کے رشتے کے ٹوٹ جانے سے صرف دو افراد کا رشتہ نہیں ٹوٹتا اس سے خاندان اجڑتے ہیں۔ ہماری اولادوں پر اس چیز کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ اللہ رب العزت نے صرف اور صرف میاں بیوی کے رشتے کو ایک ایسی خوبصورتی بخشی ہے کہ آپ اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے خاوند سے اپنے پیار کا جتنا بھی اظہار کرے کم ہے۔ ان باتوں کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور اچھی لگی ہوں تو لائک اور شیئر ظرورکریں جزاک اللہ خیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں