132

دس سال ہو گئے

دیکھو عائشہ بیگم میں آخری موقع دے رہا ہوں تمہیں اگر اس بار بھی لڑکی پیدا ہوئ نہ تو میں دوسری شادی کر لوں گا اور دس سال ہو گئے بیٹے کا منہ نہی دیکھا ہر بار بیٹے کی آس میں بیٹی بس اب مجھ سے اور صبر نہی ہوتا اسے آخری موقع سمجھو مجھے تو لگتا ہے تم بیٹا پیدا کر ہی نہی سکتی

کمرے مین تینوں بیٹیاں مولوی عبدالحق کی باتیں سن کر تھر تھر کانپ رہی تھئین باپ کا بے جا غصہ اور ماں کی بے بسی دیکھ کر بڑی بیٹی بسمہ سے رہا نہ گیا اور وہ باپ کے سامنے ا گئ

ی

ابا اپ نے وہ حدیث نہی سنی ہمارے پیارے نبی ص نے فرمایا جس نے اپنی تین بیٹیون کی اچھی پرورش کی تو وہ جنت میں میرے ساتھ یوں ہو گا بسمہ نے اپنی شہادت اور ساتھ والی انگلی جوڑ کر دکھائ اپ تو خوش نصیب ہیں کہ بیٹیاں آپ کی جنت کا زریعہ بن رہی ہین

بس بس میرے سامنے زبان نہ کھولو ا س لئےنہی پڑھایا کہ باپ کہ اگے زبان چلاو اور زور دار طمانچہ اسکے پھول سے گالوں پہ جڑ دیا ا یہ میرا اٹل فیصلہ ہے اس بار بھی بیٹی ہوئ تو میں اپنا حق استمال کروں گا یہ اسی عورت کی نحوست ہے جو اولاد نرینہ نہی ہو رہی مولوی عبدالحق غصے سے تنتناتے ظہر کی نماز کے لئے چل دئے

اور بسمہ ماں سے کہنے لگی ماں کیا سارے واعظ لوگوں کے لئے ہین ابا مولوی ہو کر اپکو دوش دے رہے ہین کیا وہ نہی جانتے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہی ہلتا وہ تو بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں جانتے ہیں سپ کا قصور نہی پھر کیوں اپ کے ساتھ یہ سلوک روا رکھتے ہین بسمہ کے ساتھ تسمیعہ بھی رونے لگی بابا نے تو کبھی ہمین بھی پیار نہی کئاجیسے اس دنیا میں ہم اپنی مرضی سے ائے ہیں ثناء جو کب سے خاموش بیٹھی تھی کہنے لگی اور ہمارے نبی ص کا فرمان ہیں تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے بہترین سلوک کرے تو کیا بابا کو نہی معلوم وہ اپنی رعیت سے کیا کر رہے ہین

اج جمعہ تھا مولوی صاھب گھر سے تیار ہو کر مسجد گئے تو خطبہ شروع ہو چکا تھا امام صاحب کی آواز جیسے کہیں دور سے آ رہی تھی عبدالحق کے سامنے بسمہ کا آنسووں میں تر چہرہ آ رہا تھا جو نبی کی حدیث بتا رہی تھی کہ باپ ک غصہ ٹھنڈا ہو

نبی ص کا فرمان ہے جس کی تین بیٹیاں ہون اور وہ انکی اچھی پرورش کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہو گا عبدالحق کی نگاہ منبر پہ بیٹھے امام کی طرف گئیں جس نے اپنی شہادت اور ساتھ والی انگلی ملا رکھی تھی خبردار آئندہ میرے آگے زبان چلائ انہں بسمہ سے کہے الفاظ یاد رہے تھے اور انسو ان کی داڑھی بھگو رہے تھے ہچکیون کی آوزیں سنکر سب لوگ حیرانی سے انکی طرف دیکھ رہے تھے لیکن وہ کسی اور ہی دنیا میں تھے

گھر واپسی پہ مولوی صاھب کی دل کی دنیا بدل چکی تھی وہ سر جھکائے گھر مین داخل ہوئے اور سب کو سلام کیا بہت شفقت سے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور پھلوں کا شاپر ان کی طرف بڑھایا تینوں بیٹیان باپ کا بدلا بدلا روپ دیکھ رہی تھین کمرے کا منظر انہیں حیران کر رہا تھا عبدالحق صاھب اپنی زوجہ کی دلجوئ کر رہے تھے اور انکی حالت ایسی تھی جیسے کوئ خواب دیکھ رہی ہون مجھے معاف کر دو عائشہ میں غفلت میں تھا مجھ بدنصیب پہ اللہ نے اپنی رحمت بیٹیوں کے روپ مین کی اور میں انہی سے منہ موڑے بیٹھا تھا مین اپنی نبی کی سیرت کو بھلا بیٹھا جن کے دل کا ٹکڑا ان کی بیٹی فاطمہ تھی اور تمہیں مورد الزام ٹھہراتا رہا تم اور بچیاں مجھے معاف کر دو اور بسمہ میرے بچے تو نے میری آنکھیں کھول دین پہلی دفعہ تینوں بچیاں بغیر خوف کے باپ کے پاس کھڑی تھیں عبدالحق نے تینون بیٹیوں اور بیوی کو خود سے لپیٹ لئا شوھر اور ب اپ کی آغوش مین اج انہین پہلی دفعہ محبت اور تحفظ کا احساس ہوا اور انہیں اپنے نبی ص پہ پیار ایا جنہوں نے اتنا پیارا دین انہیں دیا

از قلم سعدیہ ہما شیخ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں