142

سنا ہے یہ بہت عبادت گذار آدمی ہے

این این ایس نیوز!حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اپنی جوانی کے زمانے میں گلی میں سے گذر رہے تھے کہ گلی میں کھیلتے ہوئے چند بچوں نے ایک دوسرے سے کہا ” ارے ایک طرف ہٹ جاؤ۔ جانتے نہیں امام ابو حنیفہ آرہے ہیں۔ ” پھر لڑکے (بچے) ایک دوسرے سے چہ میگوئیاں*کرنے لگے۔ ” سنا ہے یہ بہت عبادت گذار آدمی ہے ساری ساری

رات اللہ تعالی کے حضور کھڑے ہو کر نفل پڑھتا رہتا ہے”امام اعظم نے بچوں کی گفتگو سنی ۔ گھر پہنچے تو اللہ کے حضور سجدے میں*گر کر رو پڑے۔ گریہ و زاری کی کیفیت طاری ہوگئی ۔ اللہ تعالی سے عرض کی ” مولا ! اگر تو نے میرے بارے میں بچوں کے دل میں*ایسا نیک گمان ڈال ہی دیا ہے تو مجھے اب ایسا بنا بھی دے “* امام اعظم کے شاگردان روایت کرتے ہیں کہ اس کے بعد امام اعظم اپنی ساری زندگی تادمِ وصال ساری رات اللہ تعالی کی بارگاہ میں کھڑے ہو نوافل و عبادات کرتے رہتے تھے۔ “سبق : یہ وہ عظیم لوگ تھے کہ اگر کوئی نیک، عبادت گذار کہہ دیتا تو ویسا ہی بن بھی جاتے تھے۔ تاکہ ظاہر و باطن میں تضاد نہ رہے۔ اور ایک آج ہم جیسے (الا ماشاءاللہ) لوگ ہیں کہ دنیا کے سامنے تو خود کو اچھا ، نیک، سخی، عبادت گذار، حاجی نمازی ظاہر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں جبکہ خلوت اور تنہائی میں شیطان کے پیروکار بن کر اللہ تعالی کی نافرمانیاں کیے جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں