128

ڈر

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے‘اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا‘امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے‘آپؓ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا،جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات

لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو‘بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ‘وقت کا

بادشاہ ‘بائیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو‘ اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا‘ آپؓ نے کہا نہیں نہیں‘کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے‘آپؓ روتے جاتے تھے اور فرماتے‘اے عمر تو کافر تھا‘ظالم تھا‘بکریاں چراتا تھا‘خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں