121

ایک عقلمند کسان کی کہانی

محترم قارئین کرام، ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی بوریت دورکرنے کیلئے اورکچھ رقم ابٹورنے کیلئے پروفیسر نے کسان سے کہاکہ چلو ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں گے۔جس کوسوال کا جواب معلوم نہ ہوگا۔(وہ ہزار روپیہ دے گا۔) پروفیسر کو یقین تھا

کہ یہ بیچارہ کسانمیرے مقابلے میں کیاجانتاہوگا۔کسان نے کہا ٹھیک ہے لیکن میری گزارش ہے کہ آپ پروفیسر ہیں۔بہت کچھ جانتے ہیں میں غریب کسان ہوں اگرآپ کوکسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا توآپ ہزار روپے دیں گےاور اگر مجھےکسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو میں پانچ سو روپے دوں گا۔پروفیسر نے منظورکرلیا۔پہلا سوال کسان نے کیاکہ وہ کون سی چیز ہےجو زمین پر چلتی ہے تو دوٹانگ پر۔ اورہوا میں اڑتی ہے تو اس کے تین پیر ہوجاتے ہیں۔پروفیسر نے بہت سوچا انٹرنیٹ پر تلاش کیا لیکن جواب نہ ملا اور اس کے بعد خاموشی سے ایک ہزار روپیہ کسان کی طرف بڑھادیا اور کہا کہ مجھے جواب نہیں آتا کسان نے ہزار روپیہ لے کر رکھ لیا ،پروفیسر نے کہا کہ اب تم تو جواب بتاؤ،کسان نے پانچ سو روپے پروفیسر کی طرف بڑھادیئے اور کہا کہ اس سوال کا جواب مجھے بھی نہیں آتا ، دوسری جانب ایک اسلامی واقعہ یہ بھی ہے کہ حضور سرور کائنات ؐ کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ایسے ہے کہ ’’میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ‘‘حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حکمت و دانش سے لبریز کتاب نہج البلاغہ آپ کے علم ، حکمت و دانش کا ایسا سورج ہے جو تا قیامت لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے عظیم منبع اسلام کی جانب مبذول کراتا رہے گا ۔حضرت علیؓ نہ صرف مدینہ منورہ کے یہودیوں میں اپنی حکمت و دانش کے باعث مشہور تھے بلکہ مشرکین مکہ بھی آپ کے علم اور عمدہ فیصلوں کے قائل نظر آتے تھے، حضرت علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں کہ میں نے توریت سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں۔ وہ کلمات درج ذیل ہیں۔ایک۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم.! تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان سے بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے۔ دو۔۔اے آدم کے بیٹے.! تو کسی قوت اور طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اے اولاد آدم! تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں پس تجھے بھی چاہیے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ۔ پانچ۔۔ اے آدم کے بیٹے! جب تک تو پل صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا۔چھ۔۔ اے آدم کے بیٹے.! میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیااور نطفہ کو رحم مادر میں ڈال کر اس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اس کو انسانی لباس پہنا کراس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدت معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی پس اب تو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تو اسی کیساتھ امید کرتے ہیں آپکو ہماری آج کی یہ پوسٹ پسند آئی ہوگی تو ہماری پوسٹ کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کیساتھ لازمی شئیر بھی کیجئے گا اور اگر آپکی اپنی کوئی رائے ہو تو اسے ہمارے ساتھ کمینٹس میں لازمی شئیر کیجئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں